تحریر: مقداد علوی
حوزہ نیوز ایجنسی I
نورِ ایمان کے دو مضبوط قلعے
حمد و ثنا ہے اس ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے جس نے ہمیں نورِ ایمان کی دولت سے نوازا، اور خصوصاً ہم اہل تشیع کو یہ عظیم شرف بخشا کہ ہمارا ماضی کربلا کے سورج سے منور ہے اور ہمارا مستقبل ظہور امام مہدی (عج) کی تابندہ صبح کا منتظر۔ یہ دو نقطے ایک ماضی کا المناک اور روح پرور سفر، اور دوسرا مستقبل کا روشن اور نجات بخش وعدہ ہماری ہستی کے دل کی دھڑکَن ہیں۔ انہی کے درمیان ہمارا "حال" ایک پُل کی مانند ہے جو صبر، استقامت اور جہدِ مسلسل سے تعمیر ہوتا ہے۔
کربلا: تاریخ کا وہ سورج جو کبھی غروب نہیں ہوتا اور نہ ہی تا صبح قیامت ہو سکے گا!
کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک دائمی تحریک اور ایک مکمل انقلاب ہے۔ یہ صرف 61 ہجری کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ حق و باطل کی وہ ہمیشہ زندہ کشمکش ہے جو ہر دور میں اپنی مختلف شکلیں اختیار کر لیتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے نہ صرف اپنی جان دی؛ بلکہ انہوں نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ ظلم کے سامنے جھکنے سے خدا کی راہ میں جان دے دینا بہتر ہے۔
کربلا کا جغرافیہ آفاقی ہے
کربلا کی ریت ہمارے دلوں میں اسی لیے گرم ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے: ہر زمانہ کربلا ہے، ہر زمین کربلا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا یہ قول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے:إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ بَطِراً وَ لاَ أَشِراً وَ لاَ مُفْسِداً وَ لاَ ظَالِماً وَ إِنَّمَا خَرَجْتُ أَطْلُبُ اَلصَّلاَحَ فِي أُمَّةِ جَدِّي مُحَمَّدٍ أُرِيدُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَنْهَی عَنِ اَلْمُنْكَرِ أَسِيرُ بِسِيرَةِ جَدِّي وَ سِيرَةِ أَبِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ.
’’میں کسی طمعِ حکومت، شر، فساد یا ظلم کی وجہ سے نہیں نکلا ہوں، بلکہ میں اپنے جدِّ گرامی محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ نیکی کا حکم دوں اور برائی سے روکوں، اور اپنے جدِّ بزرگوار محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے والد علی بن ابی طالب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے پر چلوں۔‘‘المناقب ج ۴، ص ۸۸)،بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار علیهم السلام ج ۴۴، ص ۳۲۷
آج کے مظلوم،کربلا کی نئے دور کی ایک جھلک
آج مشرق وسطیٰ کی جنگ زدہ وادیاں، مظلوموں کے نالے، بچوں کی بے گناہ آنکھیں، اور ماؤں کے سینے چیر دینے والی آہیں اور سسکیاں یہ سب کربلا کے ہی نئے باب ہیں۔ جب ہم فلسطین، غزہ، یمن اور شام میں خون کے دریا دیکھتے ہیں، تو ہمیں کربلا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ ہمارے ایمان کی آزمائش ہے کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں۔
15 شعبان المعظم: اندھیروں میں روشنی کا وعدہ
ولادت کا نور: تاریکی کو چیرتا ہوا سحر
ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے 15 شعبان المعظم وہ رات جس کی تاریکی کو امام مہدی (عج) کے نورِ ولادت نے روشن کر دیا۔ یہ وہ رات ہے جب امید کا چراغ روشن ہوا۔ خدا نے اسی رات اک قائم العدل،مُنجیِ بشریت کا وعدہ دے کر مظلومین جہاں کے دلوں تسلّی اور تشفّی عطا فرمائی۔
انتظار کی ثقافت: دعا اور تیاری
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری راتیں اس انتظار کی دعاؤں سے معمور ہیں: "اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ"۔ لیکن انتظار محض دعا ہی نہیں، عملی تیاری کا نام بھی ہے۔ 15 شعبان صرف ایک جشن نہیں، بلکہ ایک عہد ہے، ایسا عہد کہ ہم ظلم و بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، اپنے نفوس و اخلاق کو پاک کریں گے اور اس مُنجیِ موعود کے ظہور کے لیے زمین کو تیار کریں گے۔
غیبت کا فلسفہ: آزمائش اور ترقی
غیبتِ امام مہدی (عج) کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ انسان کی آزادیِ عزم و ارادہ، پختہ یقین اور روحانی ترقی کے لیے ایک الہی آزمائش ہے۔ ہر شیعہ سے یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے غیبت کے دور میں ایمان کی کیسے حفاظت کی؟۔
حال کا امتحان: کربلا سے مہدی عجل تک پُلِ صراط کی مانند!
جدید جنگ: حق و باطل کی صف آرائی
آج کا مشرق وسطیٰ، جہاں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے، درحقیقت اسی عظیم جدوجہد کا حصہ ہے۔ یہ جنگ صرف زمین اور وسائل کی نہیں، بلکہ حقیقت میں حق و باطل کی ہے۔ جس طرح کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے یزیدیت کے خلاف علمِ حق بلند کیا، اسی طرح آج بھی ہر مظلوم کی آواز، ہر مجاہد کا قدم، اسی حق کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
ظہور کی نشانیاں: فتنوں کا طوفان
ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب فتنے، یہ ساری تباہیاں، ظہورِ امام (عج) کے قریب ہونے کی نشانیاں ہیں۔ احادیث میں بیان کردہ آخری زمانے کے فتنے آج ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے، جبکہ امید مومن کا زادِ راہ۔
ہماری ذمہ داری: فعّال انتظار
"فعّال انتظار" سے مراد صرف دعا کرنا نہیں، بلکہ:
1. ذاتی تیاری: اخلاقی اصلاح، علم حاصل کرنا
2. سماجی تیاری: معاشرے میں عدل قائم کرنے کی کوشش
3. ثقافتی جدوجہد: کربلا کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا
4. وحدت کی کوشش: اسلامی وحدت کے لیے کام کرنا
روحانی رابطہ: عبادات اور اعمال کا خاص مقام
زیارات اور دعائیں: غیر موجود حضور کا احساس
زیارت عاشورہ، ندبہ، اور امام زمانہ (عج) کی مخصوص دعائیں ہمارے اور ہمارے اماموں کے درمیان روحانی رابطے کا ذریعہ ہیں۔ یہ دعائیں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ہمارے امام ہم سے غائب نہیں، بلکہ ہماری روحانی آنکھیں ان کے دیدار سے محروم ہیں۔
صلوات: رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے مہدی (عج) تک کا تسلسل
ہر نماز، ہر عبادت میں ہم صلوات بھیج کر نہ صرف رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور آلِ رسول علیھم السلام سے اپنا تعلق مضبوط کرتے ہیں بلکہ امام زمانہ (عج) سے بھی روحانی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
مستقبل کی تصویر: ظہور کے بعد کی دنیا
عدل کی حکمرانی، ایک نئی دنیا کا آغاز
ظہورِ مہدی (عج) کے بعد قائم ہونے والی حکومتِ عدل محض ایک سیاسی نظام نہیں ہوگا بلکہ انسانیت کی روحانی، اخلاقی، علمی اور تہذیبی ترقی کا ایک جامع منصوبہ ہوگا۔
علم کا دریا: معجزات اور سائنس کا امتزاج
وہ دور ایسا ہوگا جب پوشیدہ علوم عام ہوں گے، زمین اپنے خزانے باہر نکالے گی، اور انسانوں کے درمیان محبت و اخوت کا راج ہوگا۔
انسانی کمال کی معراج
ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے عین مطابق ترقی کرے گا۔ ظلم، جہالت، بیماری اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔
ما حصل قابل عمل پیغام : ہماری شناخت، ہماری ذمہ داری
ہم شیعہ واقعی خوش قسمت ہیں۔ ہماری تاریخ کا ہر صفحہ شجاعت، قربانی اور ایمان سے لبریز ہے۔ ہمارا مستقبل عدل، امن اور انسانی عزت کا گہوارہ ہونے والا ہے۔ ہمارا حال ان دونوں کے درمیان ایک مقدس ذمہ داری ہے: کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنا، اور مہدی (عج) کے ظہور کے لیے اپنے آپ کو اور معاشرے کو تیار کرنا۔
ہر دل میں ہے حسین (ع) کی محبت زندہ ہے ہر زبان پر ہے مہدی (عج) کا انتظار زندہ ہے کربلا ہمیں صبر و ثبات کی تعلیم دیتی ہے اور شعبان کی رات ہمیں امید کے پرچم دکھاتی ہے۔
دعا: اللہ ہم سب کو حق کی راہ پر ثابت قدم رکھے، کربلا کے پیغام کو سمجھنے اور پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے امام حضرت مہدی (عج) کے ظہور کو جلد از جلد فرما کر اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے۔ آمین یا رب العالمین۔
ولادتِ مُنجیِ عل بشریت (عجل) تمام محبانِ اھلبیت علیھم السلام بہت بہت مبارک ہو۔









آپ کا تبصرہ